12 اگست 2014 - 18:32
غزہ پر جارحیت کے بعد صہیونی معاشرہ شدید اختلاف کا شکار

صیہونی معاشرے میں شدید اختلافات کی وجہ سے اسرائیل میں اندرونی طور پر رونما ہونے والی تبدیلیوں کا پتہ چلتا ہے ۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ غزہ کے  خلاف ہمہ گیر جنگ میں اسرائیل کی شکست و ناکامی کے آثار نمایاں ہونے کے بعد غزہ جنگ میں فلسطینی استقامت کے مقابلے میں اسرائیل کی شکست و ناکامی کی وجوہات کی تحقیقات سے متعلق  مطالبات میں اضافہ ہوگیا ہے ۔
صیہونی معاشرے میں شدید اختلافات کی وجہ سے اسرائیل میں اندرونی طور پر رونما ہونے والی تبدیلیوں کا پتہ چلتا ہے ۔
ایسے حالات میں صیہونی پارلمینٹ کنسٹ کے ایک رکن  نے اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو سے استعفے کا مطالبہ کیا ہے، اسرائیلی پارلیمنٹ کے  رکن ایتان گابل نے کہا ہے کہ نیتن یاہو کو غزہ کے خلاف جنگ  میں ناکارآمد اور غلط کارکردگی اور مینجمنٹ کی وجہ سے استعفی دینا چاہئیے ۔ ایتان گابل نے کہا ہے کہ غزہ پٹی  سے قریب واقع یہودی کالونیوں کی صورت  حال بہت ہی خراب اوربدتر  ہے اور نیتن یاہو اپنی ناکامی کو اپنے لوگوں سے چھپا نے کوشش کررہے ہیں ۔
یہ ایسی حالت میں ہے کہ  جب حالیہ دنوں میں صیہونی حکومت کی پارلیمنٹ میں سلامتی اور خارجہ کمیشن پالیسی کے سربراہ  زایو الکین  نے بھی فلسطینی  استقامت کے مقابلے میں اسرائیل کی شکست وناکامی کے آثار  نمایاں ہونے کے بعد   نیتن یاہو اور اسرائیلی فوج کے سربراہ بنی گانتز کے بارے میں ایک تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دئیے جانے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ شکست وناکامی کےی حقیقی وجوہات کا جائزہ لیا جائزہ لیا جائے کیونکہ اسرائیلی تجزیہ کاروں نے اس مسئلے کو بہت زیادہ بڑھا چھڑھا کر پیش کیا ہے ۔
 اطلاعات کے مطابق مقبوضہ فلسطین کے جنوبی علاقوں کے  لوگ  نیتن یاہو پر  زیادہ ناراض ہیں ان کا کہنا ہے کہ نیتن یاہو اور اسرائیل فوج فلسطینی استقامت کے مقابلے میں عاجز ہوگئ ہے ۔
 متحدہ امارات کے اخبار البیان نے تجزیہ کرتے ہوئے لکھا ہے  کہ  غزہ میں  فلسطینی  استقامت کے مقابلے میں اسرائیل کی ناتوانی  شاید اسرائیل کے وزیر اعظم نیتن یاہو  کی وقت سے پہلے ریٹائرڈ ہونے کا باعث  بن سکتی ہے ۔ان  خبروں اوررپورٹوں کے مطابق  اسرائیل میں نیتن  یاہو کے خلاف اعتراض میں مزید اضافہ ہوگیا ہے اسرائیل کے سیکورٹی حکام  اسرائیل کے  وزیر اعظم نیتن یاہو اور وزیر جنگ موشہ یعلون کو جنگ میں ناکام قرار دیتے ہیں۔  ایسے حالات میں اسرائیل کے وزیر خزانہ نفتالی بنٹ نے  جنگ میں  اپنے  اہداف کوحاصل کرنے کے سلسلےمیں اسرائیل  کی ناتوانی کا اعتراف کیا ہے ۔
دوسری  طرف اسرائیل میں  غزہ  کے خلاف جنگ کی  مخالفت میں اضافہ کے پیش نظر اتوار کے روز سرگرم اسرائیلی کارکن شموئیل یروشلمی کو  جنھوں نے غزہ  جنگ کے  سبب  نیتن یاہو کوقتل کرنے کا مطالبہ کیاتھااسرائیل کی پولیس نے گرفتار کرلیا ہے ۔
شموئیل یروشلمی نے  فیس بک پر اسرائیلی فوجیوں سے غزہ کے  لوگوں سے  جنگ کرنے کے بجائے نیتن یاہو اور اس کی  کابینہ کے ساتھ جنگ کرنے اورانھیں قتل کرنے کا  مطالبہ کیا تھا ۔شموئیل  پرسزا  کے  طورپر جرمانہ  عائد کیا گیا ہے وہ اس وقت اپنے گھر میں نظربند ہیں ۔
بہرحال اسرائیل کے حالات وہی ہیں جودوہزار چھ میں  لبنان کی تنتیس روزہ  جنگ میں تھے حزب اللہ لبنان  کے مقابلے میں شکست وناکامی کے بعد اسرائیل کے سیاسی اور فوجی  حکام کی برطرفی اور ان کے استعفی  کی  لہر نےسب کو اپنی  لپیٹ میں لے لیا تھا ۔
اسرائیل  میں  رد عمل خاص طورپر فلسطین کی استقامت کے مقابلے میں دوبارہ  شکست وناکامی کے  بعد خطرے کی  گھنٹی بج گئي  ہے کہ اسرائیل  آنے والے سیاسی طوفان سے مقابلے کے لئے  تیار رہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲